اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ۔ ابنا ۔ کی رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ میں امریکی مندوب نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں شام پر مزید حملوں کی دھمکی دیتے ہوئے دعوی کیا کہ واشنگٹن شام کے بحران کو سفارتی طریقے سے حل کرنا چاہتاہے۔ امریکی مندوب کا یہ دعوی ایک ایسے وقت سامنےآیا ہے جب امریکا نے عالمی قوانین کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے جمعے کو خودسرانہ طور پر شام پر میزائلوں سے حملہ کیا۔
امریکی مندوب نے شام پر امریکی حملے پر روس کے ردعمل پر بھی تنقید کی اور دعوی کیا کہ دنیا والے اس بات کا انتظار کررہے ہیں کہ روس شامی حکومت کے ساتھ اپنے نامناسب اتحاد کے تعلق سے اپنے موقف پر نظرثانی کرے گا۔ انہوں نے شام پر امریکا کے خود سرانہ حملے کو جس کی خود امریکی عوام بھی مخالفت کررہے ہیں ایک نپا تلا اقدام قراردیا۔
دوسری جانب شام پر امریکی حملے کے بارے میں سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں شام کے مندوب بشار الجعفری نے کہا کہ امریکا کے اس حملے کے بعد شام کے دیگر علاقوں میں داعش اور جبہہ النصرہ کے حملوں میں تیزی آگئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ حملہ واشنگٹن کی اسٹرٹیجیک غلطیوں کا تسلسل ہے۔ شامی مندوب نےاس اجلاس میں جو روس کی درخواست پر فوری طور پر منعقد کیا گیا تھا کہا کہ امریکا داعش کے خلاف جنگ کی قیادت کا جھوٹا دعوی کررہا ہے کیونکہ شام میں اس نے اب تک جو کچھ بھی انجام دیا ہے وہ یہ ہے اس نے عام شہریوں کا قتل عام کیا ہے اور شام کی شہری تنصیبات کو ہی تباہ کیا ہے۔
شامی مندوب نے اس بات کا ذکرکرتے ہوئے کہ واشنگٹن نے اس سے پہلے بھی ایک بار عراق میں کیمیائی ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹا دعوی کرکے پوری دنیا کو دھوکہ دیا تھا اورآج بھی اس نے اسی بے بنیاد بہانے سے شام پر حملہ کیا ہے کہا کہ دہشت گرد گروہوں نے ہی صوبہ ادلب کے شہر خان شیخون پر کیمیائی حملہ کیا ہے۔
دریں اثنا اقوام متحدہ میں روس کے نائب مندوب ولادیمیرسافرونکوف نے بھی سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں کہاکہ امریکا نے بین الاقوامی قوانین کی دھجیاں اڑاتے ہوئے شام جیسے ایک خود مختار اور آزاد ملک کے اقتدار اعلی پر حملہ کیا ہے۔ روسی نمائندے نے شام پر امریکا کے حملے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کے اقدام سے علاقائی اور عالمی سطح پر پائے پائے جانے والے عدم استحکام میں مزید شدت پیدا ہوگی اور اس کے انتہائی خطرناک نتائج برآمد ہوں گے۔
اقوام متحدہ میں روس کے نائب مندوب نے کہاکہ شام پر امریکا کے حملے سے صرف دہشت گرد گروہ مضبوط ہوں گے کیونکہ امریکا نے شام کی مسلح افواج اور فضائیہ کو نشانہ بنایا ہے۔ انہوں نے امریکا سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد سے جلد اپنے مخاصمانہ اقدامات کو بند کرے اور شام کے بحران کو سیاسی اور سفارتی طریقے سے حل کرنے کی کوششوں میں شامل ہو۔
ادھر اقوام متحدہ میں سوئیڈن کے بھی مندوب نے کہا ہے کہ شام پر امریکا کے میزائل حملے کا بہانہ دوہزار تین میں عراق پر امریکی حملے کی ہی طرح جھوٹا اور بے بنیاد ہے۔ اقوام متحدہ میں سوئیڈن کے مستقل مندوب اولف اسکوج نے شام پر امریکا کے حملے پر اپنی تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کا موازنہ دوہزارتین میں عراق میں عام تباہی پھیلانےوالے ہتھیاروں کی موجودگی کے بارے میں امریکا اور برطانیہ کے جھوٹے دعوؤں سے کیا۔
یاد رہے کہ سوئیڈش سفارتکار ہینس بلیکس نے جو دوہزار تین میں عراق میں عام تباہی پھیلانےوالے ہتھیاروں کی تحقیقات پر متعین اقوام متحدہ کے انسپکٹروں کی ٹیم کے سربراہ تھے اسی وقت اعلان کردیا تھا کہ عراق کے پاس عام تباہی پھیلانے والے ہتھیار نہیں ہیں اور ان کی ٹیم کو عراق میں ایسا کچھ بھی نہیں ملا ہے جبکہ امریکی اور برطانوی حکومتیں دعوی کررہی تھیں کہ عراقی حکومت نے عام تباہی پھیلانےوالے ہتھیار چھپا رکھے ہیں۔
.......
/169